خوف کے سیل مسلسل سے نکالے مجھے کوئی

افتخار عارف

خوف کے سیل مسلسل سے نکالے مجھے کوئی

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    خوف کے سیل مسلسل سے نکالے مجھے کوئی

    میں پیمبر تو نہیں ہوں کہ بچا لے مجھے کوئی

    اپنی دنیا کے مہ و مہر سمیٹے سر شام

    کر گیا جادۂ فردا کے حوالے مجھے کوئی

    اتنی دیر اور توقف کہ یہ آنکھیں بجھ جائیں

    کسی بے نور خرابے میں اجالے مجھے کوئی

    کس کو فرصت ہے کہ تعمیر کرے از سر نو

    خانۂ خواب کے ملبے سے نکالے مجھے کوئی

    اب کہیں جا کے سمیٹی ہے امیدوں کی بساط

    ورنہ اک عمر کی ضد تھی کہ سنبھالے مجھے کوئی

    کیا عجب خیمۂ جاں تیری طنابیں کٹ جائیں

    اس سے پہلے کہ ہواؤں میں اچھالے مجھے کوئی

    کیسی خواہش تھی کہ سوچو تو ہنسی آتی ہے

    جیسے میں چاہوں اسی طرح بنا لے مجھے کوئی

    تیری مرضی مری تقدیر کہ تنہا رہ جاؤں

    مگر اک آس تو دے پالنے والے مجھے کوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY