کھیلا بچپن جھوما لڑکپن لہکی جوانی چوباروں میں

عشرت قادری

کھیلا بچپن جھوما لڑکپن لہکی جوانی چوباروں میں

عشرت قادری

MORE BYعشرت قادری

    کھیلا بچپن جھوما لڑکپن لہکی جوانی چوباروں میں

    لاٹھی تھامے دیکھا بڑھاپا نگری کے گلیاروں میں

    نرت پہ جھومیں بھاؤ پہ لہکیں مدرا پی کر بہکیں لوگ

    کون سنے جو چیخیں دبی ہیں پائل کی جھنکاروں میں

    بھولے بسرے سپنے کھوجیں بیاکل نیناں بے کل ہردے

    چندر کرن سی مسکاتی تھی دہکے ہوئے انگاروں میں

    نیل گگن پر جس کا سنگھاسن وہ ہے جگ کا پالنہار

    پاگل خود کو داتا سمجھے سپنوں کے سنساروں میں

    وہ چندر کرن وہ روپ متی وہ میری کویتا میری غزل

    میلے میں کچھ ایسے بچھڑی ڈوب گئی اندھیاروں میں

    چھلکی چھلکی آنکھیں چھپائے ہونٹوں پر مسکان سجائے

    تم جیسا دکھیارا نہ دیکھا عشرتؔ جی دکھیاروں میں

    مآخذ:

    • کتاب : Aasman Saiyban (Poetry) (Pg. 34)
    • Author : Ishrat Qadri
    • مطبع : Madhya Pradesh Urdu Academy, Bhopal (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY