خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

علامہ اقبال

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    INTERESTING FACT

    ( بال جبریل)

    خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

    کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گر ہوں

    یہی سوز نفس ہے اور میری کیمیا کیا ہے

    نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں

    نہ پوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کیا ہے

    اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں

    تو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

    نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا

    خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY