خوشبو کو قید گل سے رہا کر دیا گیا
خوشبو کو قید گل سے رہا کر دیا گیا
اور اس کے بعد رزق ہوا کر دیا گیا
اک دل نواز غم کی یہ مجھ پر نوازشیں
میری برہنگی کو قبا کر دیا گیا
جو بھی ملا اسی کا گریبان چاک تھا
خنجر بہ دست دست صبا کر دیا گیا
تھی آدمی کو اور ضرورت زمین کی
یہ کیا کہ آسماں کو سوا کر دیا گیا
گزرا جو ہم پہ اس کی خدائی میں دوستو
وہ ہار کر سپرد خدا کر دیا گیا
اس نے کہا کہ مجھ سے بچھڑنے پہ یہ سکوت
تو زندگی میں حشر بپا کر دیا گیا
مجبور تھے تو رات اسے ماننا پڑا
جب رنگ روشنی سے جدا کر دیا گیا
مٹی کا جسم تھا سو وو مٹی کو دے دیا
یہ قرض آخری بھی ادا کر دیا گیا
Subh Bakhair Zindagi
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.