خشک دریا پڑا ہے خواہش کا

اعجاز رحمانی

خشک دریا پڑا ہے خواہش کا

اعجاز رحمانی

MORE BYاعجاز رحمانی

    خشک دریا پڑا ہے خواہش کا

    خواب دیکھا تھا ہم نے بارش کا

    مستقل دل جلائے رکھتا ہے

    ہے یہ موسم ہوا کی سازش کا

    اس سے کہنے کو تو بہت کچھ ہے

    وقت ملتا نہیں گزارش کا

    کوئی اس سے تو کچھ نہیں کہتا

    بو رہا ہے جو بیچ رنجش کا

    پا بہ زنجیر چل رہے ہیں جو ہم

    یہ بھی پہلو ہے اک نمائش کا

    پھول کل تھے تو آج پتھر ہیں

    یہ بھی انداز ہے ستائش کا

    میں نے آنکھوں سے گفتگو کر لی

    یہ ہنر ہے زباں کی بندش کا

    کھل رہے ہیں گلاب زخموں کے

    شکریہ آپ کی نوازش کا

    جاری مشق سخن رہے اعجازؔ

    کچھ صلہ تو ملے گا کاوش کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے