کس قدر بے کیف دنیائے دنی ہے صاحبو

گیان چند جین

کس قدر بے کیف دنیائے دنی ہے صاحبو

گیان چند جین

MORE BYگیان چند جین

    کس قدر بے کیف دنیائے دنی ہے صاحبو

    بے کسی ہے بے حسی ہے بے رخی ہے صاحبو

    ہر کلی کے ہونٹ پر پیڑھی جمی ہے صاحبو

    پیاس کے جنگل میں کتنی بیکلی ہے صاحبو

    دیکھنا للچانا اور محروم رہنا آئے دن

    انفعالی زندگی کیا زندگی ہے صاحبو

    چاند محسن کش تھا سورج کو دبا کر کھا گیا

    گو اسی کے دم سے اس میں روشنی ہے صاحبو

    دوسروں کو روندیئے اور آگے بڑھتے جائیے

    بعض لوگوں کے لئے سب کچھ یہی ہے صاحبو

    بانس پر مجھ کو چڑھائیں لاکھ ارباب غرض

    جانتا ہوں میں جو اصلیت مری ہے صاحبو

    چل کے ریگستان میں دیکھیں سراب اندر سراب

    خود فریبی میں قیامت دل کشی ہے صاحبو

    شام کو چڑیوں کی چوں چوں رات کو مینڈک کا شور

    کتنی اونچی کائناتی شاعری ہے صاحبو

    کیوں مصر ہیں آپ میں سیدھی ڈگر ہی پر چلوں

    میری شخصیت سے یہ تو دشمنی ہے صاحبو

    سیر فردوس نظر کو منع فرماتے ہیں آپ

    شیخ صاحب کے تخیل میں کجی ہے صاحبو

    بادلوں میں خود فراموشی کے دم بھر کر اڑیں

    مان جاؤ میری چھوٹی سی خوشی ہے صاحبو

    جھانک کر دیکھا جو میں نے اندرون لا شعور

    اس زمیں پر کس غضب کی زندگی ہے صاحبو

    کس لئے مبہوت ہو خوش خوابیٔ ماضی میں تم

    حال کی دل داریوں میں کیا کمی ہے صاحبو

    اپنے اپنے دیکھنے کے ڈھنگ پر ہے منحصر

    زندگی میں تازگی ہی تازگی ہے صاحبو

    اس میں سوز دل ملا دو تو شفق بن جائے گی

    یہ جو مطلع پر ذرا سی روشنی ہے صاحبو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے