کسی کی راہ کا پتھر ہٹا رہا ہوں ابھی

ابھے کمار بیباک

کسی کی راہ کا پتھر ہٹا رہا ہوں ابھی

ابھے کمار بیباک

MORE BYابھے کمار بیباک

    کسی کی راہ کا پتھر ہٹا رہا ہوں ابھی

    سفر کو اور بھی مشکل بنا رہا ہوں ابھی

    اسے یہ جان کر اچھا بہت لگے گا مگر

    میں اس کی یاد میں سب کچھ بھلا رہا ہوں ابھی

    میں ساتھ اپنے ہی سائے کا چھوڑ دوں نہ کہیں

    کہ سر پہ دھوپ غموں کی اٹھا رہا ہوں ابھی

    حیات تو بھی تو دھوکے سے کم نہیں لیکن

    فریب تیرے لئے سب سے کھا رہا ہوں ابھی

    میں آندھیوں سے ڈرا کب کہ آج گھبراؤں

    تو پھر دیے سے دیے کیوں جلا رہا ہوں ابھی

    مجھے پڑھے تو کوئی کس طرح پڑھے ببیاکؔ

    میں خود کو آب پہ لکھ کر مٹا رہا ہوں ابھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY