کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں

مخمور سعیدی

کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں

    گھر کہیں گم ہو گیا دیوار و در کے درمیاں

    کون اب اس شہر میں کس کی خبر گیری کرے

    ہر کوئی گم اک ہجوم بے خبر کے درمیاں

    جگمگائے گا مری پہچان بن کر مدتوں

    ایک لمحہ ان گنت شام و سحر کے درمیاں

    ایک ساعت تھی کہ صدیوں تک سفر کرتی رہی

    کچھ زمانے تھے کہ گزرے لمحہ بھر کے درمیاں

    وار وہ کرتے رہیں گے زخم ہم کھاتے رہیں

    ہے یہی رشتہ پرانا سنگ و سر کے درمیاں

    کیا کہے ہر دیکھنے والے کو آخر چپ لگی

    گم تھا منظر اختلافات نظر کے درمیاں

    کس کی آہٹ پر اندھیروں میں قدم بڑھتے گئے

    رونما تھا کون اس اندھے سفر کے درمیاں

    کچھ اندھیرا سا اجالوں سے گلے ملتا ہوا

    ہم نے اک منظر بنایا خیر و شر کے درمیاں

    بستیاں مخمورؔ یوں اجڑیں کہ صحرا ہو گئیں

    فاصلے بڑھنے لگے جب گھر سے گھر کے درمیاں

    مأخذ :
    • کتاب : Umr-e-Guzashta Ka Hisab (Vol. 1) (Pg. 348)
    • Author : Makhmoor Saeedi
    • مطبع : Modern Publishing House, New Delhi (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY