کچھ بات تو ہوگی ہی وہ کیسی کہانی تھی
کچھ بات تو ہوگی ہی وہ کیسی کہانی تھی
کلیوں کا زمانہ تھا پھولوں کی جوانی تھی
وہ کون سا منظر تھا پھر کیسا سماں بدلا
احساس کا طوفاں تھا جذبے کی روانی تھی
آنکھوں میں تمہاری وہ اک جھیل سی گہرائی
مبہم سے تبسم میں اک شعلہ بیانی تھی
کچھ کہہ نہ سکے تم بھی کچھ کہہ نہ سکے ہم بھی
افسانہ کہوں تیرا یا میری کہانی تھی
تم وقت کے دریا میں پاؤ گے انہیں اک دن
یادوں کے بسیروں کو اپنی جو نشانی تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.