کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں

امیر مینائی

کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں

امیر مینائی

MORE BY امیر مینائی

    کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں

    گردن میں طوق بھی تو لڑکپن کے یار ہیں

    سینہ ہو کشتگان محبت کا یا گلا

    دونوں یہ تیرے خنجر آہن کے یار ہیں

    خاطر ہماری کرتا ہے دیر و حرم میں کون

    ہم تو نہ شیخ کے نہ برہمن کے یار ہیں

    کیا پوچھتا ہے مجھ سے نشاں سیل و برق کا

    دونوں قدیم سے مرے خرمن کے یار ہیں

    کیا گرم ہیں کہ کہتے ہیں خوبان لکھنؤ

    لندن کو جائیں وہ جو فرنگن کے یار ہیں

    وہ دشمنی کریں تو کریں اختیار ہے

    ہم تو عدو کے دوست ہیں دشمن کے یار ہیں

    کچھ اس چمن میں سبزۂ بیگانہ ہم نہیں

    نرگس کے دوست لالہ و سوسن کے یار ہیں

    کانٹے ہیں جتنے وادئ غربت کے اے جنوں

    سب آستیں کے جیب کے دامن کے یار ہیں

    گم گشتگی میں راہ بتاتا ہے ہم کو کون

    ہے خضر جن کا نام وہ رہزن کے یار ہیں

    چلتے ہیں شوق برق تجلی میں کیا ہے خوف

    چیتے تمام وادیٔ ایمن کے یار ہیں

    پیری مجھے چھڑاتی ہے احباب سے امیرؔ

    دنداں نہیں یہ میرے لڑکپن کے یار ہیں

    مآخذ:

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites