کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے

آرزو لکھنوی

کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے

آرزو لکھنوی

MORE BYآرزو لکھنوی

    کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے

    چتون ہے کہ تلوار لئے سر پہ کھڑی ہے

    آنے کو ہے کوئی جو للک پھر سے ہوئی ہے

    ڈوبے ہوئے سورج کی کرن پھوٹ رہی ہے

    ہے پگھلی ہوئی آگ کہ جلتے ہوئے آنسو

    لوکا وہیں اٹھا ہے جہاں بوند پڑی ہے

    جب سکھ نہیں جینے میں تو اک روگ ہے جینا

    سانس آئی ہے جب چوٹ کلیجے میں لگی ہے

    کل کیا کہیں دیکھیں وہ بدلتی ہوئی چتون

    سو آسرے ٹوٹے ہیں تو اک آس بندھی ہے

    میں کچھ نہ کہوں اور وہ جو چاہے کہے جائیں

    اب روکی ہوئی سانس گلا گھونٹ رہی ہے

    کہنے کو تو آتی ہے انہیں ہاں بھی نہیں بھی

    ہو جس پہ بھروسہ نہ وہی ہے نہ یہی ہے

    ابھرے ہوے چھالے ہیں ہے روکا ہوا آنسو

    بس بجھ چکی یہ آگ کہ پانی سے لگی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY