کوئے جاناں میں ادا دیکھیے دیوانوں کی

ہیرا لال فلک دہلوی

کوئے جاناں میں ادا دیکھیے دیوانوں کی

ہیرا لال فلک دہلوی

MORE BY ہیرا لال فلک دہلوی

    کوئے جاناں میں ادا دیکھیے دیوانوں کی

    دھجیاں بانٹتے پھرتے ہیں گریبانوں کی

    خاک اڑتی ہے فضا میں یوں ہی پروانوں کی

    کون لیتا ہے خبر سوختہ سامانوں کی

    حسن کیا شے ہے فقط ذوق نظر کی تسکین

    عشق کیا چیز ہے تخلیق ہے ارمانوں کی

    آپ رخ سیل حوادث کا بدل دیتا ہے

    آسماں دیکھ کے گردش مرے پیمانوں کی

    عکس گلشن پہ بہاروں کا پڑا تھا لیکن

    کھنچ گئی پھول پہ تصویر بیابانوں کی

    آج ساحل پہ پہنچ کر ہی رہے گی کشتی

    آج ٹکر ہے مرے عزم سے طوفانوں کی

    حشر کے دن وہ خطا واروں پہ رحمت ہوگی

    آنکھ کھل جائے گی جنت کے نگہبانوں کی

    ابن آدم نے فلکؔ ہوش سنبھالا جس دم

    سب سے پہلے رکھی بنیاد صنم خانوں کی

    مآخذ:

    • کتاب : Harf-o-sada (Pg. 116)
    • Author : Hira lal Falak Dehlvi
    • مطبع : Hira lal Falak Dehlvi (1982)
    • اشاعت : 1982

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY