Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے

وحشت کلکتوی

کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے

وحشت کلکتوی

MORE BYوحشت کلکتوی

    کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے

    دیکھو ادھر نگاہ ملا کر نگاہ سے

    شرم جفا سے چھپتے ہو تم دادخواہ سے

    عذر گنہ تمہارا ہے بدتر گناہ سے

    ان کی حیا و شرم نے رکھی ہے دل کی شرم

    کیا ہوگا جب نگاہ ملے گی نگاہ سے

    انصاف بھی یہی ہے یہی شان حسن بھی

    ہاں ہاں نظر چراؤ قتیل نگاہ سے

    بیت الصنم سے دور نہیں ہے حرم کی راہ

    کیوں راہ پوچھیں زاہد گم کردہ راہ سے

    کیوں شکوہ ہم کریں عدم التفات کا

    وہ پوچھتے تو ہیں نگہ گاہ گاہ سے

    زاہد ہزار حیف کہ پہنچا نہ کوئی فیض

    رندوں کے مے کدے کو تری خانقاہ سے

    پروانوں کا ہجوم ہے شمع جمال پر

    جیتا پھرے گا کون تری جلوہ گاہ سے

    شکوہ کروں تمہاری جفا کا تو رو سیاہ

    دیکھو نہ تم مجھے نگہ عذر خواہ سے

    خوشحالئ رقیب سے وہ شاد شاد ہیں

    یعنی ہیں بے خبر مرے حال تباہ سے

    گردن جھکی ہوئی ہے اٹھاتے نہیں ہیں سر

    ڈر ہے انہیں نگاہ لڑے گی نگاہ سے

    نکلا نہ کوئی حیف یہاں قابل شکار

    صیاد خالی ہاتھ پھرا صید گاہ سے

    ہر چند وحشتؔ اپنی غزل تھی گری ہوئی

    محفل سخن کی گونج اٹھی واہ واہ سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے