کیا کروں ظرف شناسائی کو

عین الدین عازم

کیا کروں ظرف شناسائی کو

عین الدین عازم

MORE BY عین الدین عازم

    کیا کروں ظرف شناسائی کو

    میں ترس جاتا ہوں تنہائی کو

    خامشی زور بیاں ہوتی ہے

    راستہ دیجئے گویائی کو

    تیرے جلووں کی فراوانی ہے

    اور کیا چاہئے بینائی کو

    ان کی ہر بات بہت میٹھی ہے

    منہ لگاتے نہیں سچائی کو

    اے سمندر میں قتیل غم ہوں

    جانتا ہوں تری گہرائی کو

    بیٹھا رہتا ہوں اکیلا یوں ہی

    یاد کر کے تری یکتائی کو

    کھینچ لے جاتے ہیں کچھ دیوانے

    اپنی جانب ترے سودائی کو

    اف تماشہ گہ دنیا عازمؔ

    کتنی فرصت ہے تماشائی کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY