کیوں ملی اور پھر ملی کیا ہے
یار سوچو کہ زندگی کیا ہے
ان کی قربت نصیب ہے جن کو
ان سے پوچھو کہ بندگی کیا ہے
دائمی ہے اگر یہی دنیا
پھر بتاؤ کہ عارضی کیا ہے
راہ چلتے اگر لگے ٹھوکر
رک کے سوچو کہاں کمی کیا ہے
ہے بظاہر تو آدمی لیکن
پوچھتا ہے کہ آدمی کیا ہے
عمر گزری ہے غم کے سائے میں
میں نہ جانوں کوئی خوشی کیا ہے
دوستی بعد میں ملکؔ کرنا
پہلے سمجھو کہ دوستی کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.