لوگ جو صاحب کردار ہوا کرتے تھے

رخسار ناظم آبادی

لوگ جو صاحب کردار ہوا کرتے تھے

رخسار ناظم آبادی

MORE BYرخسار ناظم آبادی

    لوگ جو صاحب کردار ہوا کرتے تھے

    بس وہی قابل دستار ہوا کرتے تھے

    یہ الگ بات وہ تھا دور جہالت لیکن

    لوگ ان پڑھ بھی سمجھ دار ہوا کرتے تھے

    سامنے آ کے نبھاتے تھے عداوت اپنی

    پیٹھ پیچھے سے کہاں وار ہوا کرتے تھے

    جن قبیلوں میں یہاں آج دئے ہیں روشن

    ان قبیلوں کے تو سردار ہوا کرتے تھے

    تب عدالت سے رعایت نہیں مل پاتی تھیں

    تب گنہ گار گنہ گار ہوا کرتے تھے

    کیا زمانہ تھا مہکتی تھیں وہ کیاری گھر کی

    گھر کے آنگن گل و گلزار ہوا کرتے تھے

    قید مذہب کی نہ تھی کل کے پڑوسی دونوں

    ایک دوجے کے مددگار ہوا کرتے تھے

    گھر کے سب لوگ نبھاتے تھے خوشی سے جن کو

    گھر کے ہر فرد کے کردار ہوا کرتے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY