معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی

راشد آذر

معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی

راشد آذر

MORE BYراشد آذر

    معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی

    میرے لیے ہونٹوں پہ دعا ہے بھی نہیں بھی

    مدت ہوئی اس راہ سے گزرے ہوئے اس کو

    آنکھوں میں وہ نقش کف پا ہے بھی نہیں بھی

    منہ کھول کے بولا نہیں جاتا کہ شفا دے

    اس پاس مرے دل کی دوا ہے بھی نہیں بھی

    کہتے تھے کبھی ہم کہ خدا ہے تو کہاں ہے

    اب سوچ رہے ہیں کہ خدا ہے بھی نہیں بھی

    رکھے بھی نظر بزم میں دیکھے بھی نہیں وہ

    اوروں سے یہ انداز جدا ہے بھی نہیں بھی

    گو زیست ہے مٹتی ہوئی سانسوں کا تسلسل

    قسطوں میں یہ جینے کی سزا ہے بھی نہیں بھی

    یا دل میں کبھی یا کبھی سڑکوں پہ ملیں گے

    ہم خانہ خرابوں کا پتا ہے بھی نہیں بھی

    ہم سے جو بنا سب کے لیے ہم نے کیا ہے

    معلوم ہے نیکی کا صلہ ہے بھی نہیں بھی

    وہ موم بھی ہے میرے لیے سنگ بھی آزرؔ

    کہتے ہیں کہ اس دل میں وفا ہے بھی نہیں بھی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY