میں ایک کانچ کا پیکر وہ شخص پتھر تھا

رئیس وارثی

میں ایک کانچ کا پیکر وہ شخص پتھر تھا

رئیس وارثی

MORE BYرئیس وارثی

    میں ایک کانچ کا پیکر وہ شخص پتھر تھا

    سو پاش پاش تو ہونا مرا مقدر تھا

    تمام رات سحر کی دعائیں مانگی تھیں

    کھلی جو آنکھ تو سورج ہمارے سر پر تھا

    چراغ راہ محبت ہی بن گئے ہوتے

    تمام عمر کا جلنا اگر مقدر تھا

    فصیل شہر پہ کتنے چراغ تھے روشن

    سیاہ رات کا پہرا دلوں کے اندر تھا

    اگرچہ خانہ بدوشی ہے خوشبوؤں کا مزاج

    مرا مکان تو کل رات بھی معطر تھا

    سمندروں کے سفر میں وہ پیاس کا عالم

    کہ فرش آب پہ اک کربلا کا منظر تھا

    اسی سبب تو بڑھا اعتبار لغزش پا

    ہمارا جوش جنوں آگہی کا رہبر تھا

    جو ماہتاب حصار شب سیاہ میں ہے

    کبھی وہ رات کے سینے پہ مثل خنجر تھا

    میں اس زمیں کے لیے پھول چن رہا ہوں رئیسؔ

    مرا نصیب جہاں بے اماں سمندر تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY