میں جب چھوٹا سا تھا کاغذ پہ یہ منظر بناتا تھا

والی آسی

میں جب چھوٹا سا تھا کاغذ پہ یہ منظر بناتا تھا

والی آسی

MORE BYوالی آسی

    میں جب چھوٹا سا تھا کاغذ پہ یہ منظر بناتا تھا

    کھجوروں کے درختوں کے تلے اک گھر بناتا تھا

    میں آنکھیں بند کر کے سوچتا رہتا تھا پہروں تک

    خیالوں میں بہت نازک سا اک پیکر بناتا تھا

    میں اکثر آسماں کے چاند تارے توڑ لاتا تھا

    اور اک ننھی سی گڑیا کے لیے زیور بناتا تھا

    اڑا کر روز لے جاتی تھیں موجیں میرے خوابوں کو

    مگر میں بھی گھروندے روز ساحل پر بناتا تھا

    مری بستی میں میرے خون کے پیاسے تھے سب لیکن

    نہ میں تلوار گڑھتا تھا نہ میں خنجر بناتا تھا

    ہدایت کار اس دنیا کے ناٹک میں مجھے والیؔ

    کبھی ہیرو بناتا تھا کبھی جوکر بناتا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY