میں کب سے مرا اپنے اندر پڑا ہوں

علی عمران

میں کب سے مرا اپنے اندر پڑا ہوں

علی عمران

MORE BYعلی عمران

    میں کب سے مرا اپنے اندر پڑا ہوں

    میں مردہ ہوں مردے کے اوپر پڑا ہوں

    میں دنیا بدلنے کو نکلا تھا گھر سے

    سو تھک ہار کے گھر میں آ کر پڑا ہوں

    خدا ہوں میں گنبد سے لٹکا ہوا ہوں

    میں بھگوان مندر کے باہر پڑا ہوں

    ترے پاؤں کی دھول ہی چاٹنی ہے

    ترے در کا بن کے میں پتھر پڑا ہوں

    قدم دھر مری سوکھی اس سر زمیں پہ

    تری چاہ میں کب سے بنجر پڑا ہوں

    سویرا ہوا مکھیاں آ گئی ہیں

    میں جاگا ہوا چھت پہ کیوں کر پڑا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY