میں کیا کروں یہیں کرنا ہے انتظار مجھے

رخسار ناظم آبادی

میں کیا کروں یہیں کرنا ہے انتظار مجھے

رخسار ناظم آبادی

MORE BYرخسار ناظم آبادی

    میں کیا کروں یہیں کرنا ہے انتظار مجھے

    اسی جگہ تو ملا تھا وہ پہلی بار مجھے

    بساط زیست پہ بازی پلٹ بھی سکتی ہے

    ترا نصیب جو مل جائے مستعار مجھے

    اسی نے مجھ کو بنا کر سپرد تیرے کیا

    ذرا سلیقے سے اے زندگی گزار مجھے

    بنا لگام کے بیٹھا دیا ہے مالک نے

    تو خواہ مخواہ سمجھتا ہے شہسوار مجھے

    خطا معاف ہو اس کی بھی کیا ضرورت تھی

    برائے نام جو بخشا ہے اختیار مجھے

    تلاش رزق میں گھر سے نہیں نکلتا اگر

    تو کرنا پڑتا میسر پہ انحصار مجھے

    تو اے ضمیر جہاں مجھ کو لے کے بیٹھا ہے

    اسی مقام پہ رکھیو تو برقرار مجھے

    قسم نہ کھا تری فطرت سے خوب واقف ہوں

    ہے تیری وعدہ خلافی کا اعتبار مجھے

    یہ زندگی جو کہیں چین سے نہیں گزری

    تمام عمر رہی فکر روزگار مجھے

    میں ان خلاؤں میں گمنام ہو نہ جاؤں کہیں

    عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY