میں لوح ارض پر نازل ہوا صحیفہ ہوں

علی اکبر عباس

میں لوح ارض پر نازل ہوا صحیفہ ہوں

علی اکبر عباس

MORE BYعلی اکبر عباس

    میں لوح ارض پر نازل ہوا صحیفہ ہوں

    دلوں پہ ثبت ہوں پیشانیوں پہ لکھا ہوں

    پرانی رت مرا مژدہ سنا کے جاتی ہے

    نئی رتوں کے جلو میں سدا اترتا ہوں

    میں کون ہوں مجھے سب پوچھنے سے ڈرتے ہیں

    میں روز ایک نئے کرب سے گزرتا ہوں

    میں ایک زندہ حقیقت ہوں کون جھٹلائے

    جو ہونٹ بند رہیں آنکھ سے چھلکتا ہوں

    کھلی ہوا میں جو آؤں تو راکھ بن جاؤں

    ابھی میں زیر زمیں ہوں مگر ابلتا ہوں

    کسی طرح تو سویروں کی آنکھ کھل جائے

    میں شہر شہر میں سورج اٹھائے چلتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY