میں سچ کہوں پس دیوار جھوٹ بولتے ہیں

عمران عامی

میں سچ کہوں پس دیوار جھوٹ بولتے ہیں

عمران عامی

MORE BYعمران عامی

    میں سچ کہوں پس دیوار جھوٹ بولتے ہیں

    مرے خلاف مرے یار جھوٹ بولتے ہیں

    ملی ہے جب سے انہیں بولنے کی آزادی

    تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں

    میں مر چکا ہوں مجھے کیوں یقیں نہیں آتا

    تو کیا یہ میرے عزا دار جھوٹ بولتے ہیں

    یہ شہر عشق بہت جلد اجڑنے والا ہے

    دکان دار و خریدار جھوٹ بولتے ہیں

    بتا رہی ہے یہ تقریب منبر و محراب

    کہ متقی و ریاکار جھوٹ بولتے ہیں

    قدم قدم پہ نئی داستاں سناتے لوگ

    قدم قدم پہ کئی بار جھوٹ بولتے ہیں

    میں سوچتا ہوں کہ دم لیں تو میں انہیں ٹوکوں

    مگر یہ لوگ لگاتار جھوٹ بولتے ہیں

    ہمارے شہر میں عامیؔ منافقت ہے بہت

    مکین کیا در و دیوار جھوٹ بولتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY