مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں

شبنم شکیل

مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں

شبنم شکیل

MORE BYشبنم شکیل

    مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں

    جب ان کو بھول جائیں وہ دن دور بھی نہیں

    کچھ تو لکھی ہیں اپنے مقدر میں گردشیں

    کچھ پیار میں نباہ کا دستور بھی نہیں

    میں نے سنا ہے ترک تعلق کے بعد سے

    افسردہ گر نہیں تو وہ مسرور بھی نہیں

    دیکھی ہیں میں نے ایسی بھی دکھیا سہاگنیں

    بیاہی ہیں اور مانگ میں سیندور بھی نہیں

    یہ جس کا زہر روح میں میری اتر گیا

    ہلکا سا گھاؤ تھا کوئی ناسور بھی نہیں

    اس کی نظر سے کیوں کبھی گزرے مری غزل

    ایسی تو خاص میں کوئی مشہور بھی نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Shab Zaad (Pg. 105)
    • Author : Shabnam Shakeel
    • مطبع : Mavaraa Publications (1978)
    • اشاعت : 1978

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY