موسم نے گلابوں کے انگارے ہی بخشے ہیں

اسرار اکبر آبادی

موسم نے گلابوں کے انگارے ہی بخشے ہیں

اسرار اکبر آبادی

MORE BYاسرار اکبر آبادی

    موسم نے گلابوں کے انگارے ہی بخشے ہیں

    اٹھتا ہے دھواں دل سے ہم آگ میں جلتے ہیں

    یوں ان کے دریچے تک جاتی ہے نظر جیسے

    پانی کے لئے دہقاں آکاش کو تکتے ہیں

    اس وقت بچھڑتے ہو کیوں راہ وفا میں تم

    کچھ اور چلو ساتھی آگے کئی رستے ہیں

    یہ رات ہے ساون کی جنگل میں اکیلا ہوں

    بجلی بھی چمکتی ہے بادل بھی برستے ہیں

    اسرارؔ نہ کر شکوہ لوگوں سے زمانے کا

    آفات میں تپ کر ہی انسان نکھرتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے