مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتا

غمگین دہلوی

مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتا

غمگین دہلوی

MORE BYغمگین دہلوی

    مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتا

    قضا سے اے فلک گر اس قدر ہوتا تو کیا ہوتا

    جنازہ پر مرے اس شوخ کو لایا ہے تو آخر

    اگر اے عشق کچھ تجھ میں اثر ہوتا تو کیا ہوتا

    ہوا بے ہوش بالکل آہ اس کی آمد آمد میں

    گر آنے سے میں اس کے با خبر ہوتا تو کیا ہوتا

    اسی عالم میں ہیں یہ لطف اے دل عشق بازی کے

    اگر باغ جناں میں بو البشر ہوتا تو کیا ہوتا

    تجلی تو ہوئی موسیٰ کو پر میری طرح واعظ

    ہمیشہ جلوہ گر ہر اک شجر ہوتا تو کیا ہوتا

    ہنر مندوں کو تیرے ہاتھ سے ہے زندگی مشکل

    جو تجھ میں بھی کوئی اے دل ہنر ہوتا تو کیا ہوتا

    کیا بد نام اک عالم نے غمگیںؔ پاک بازی میں

    جو میں تیری طرح سے بد نظر ہوتا تو کیا ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے