مرے وجود کی گہرائیوں میں رہتا ہے

قمر عباس قمر

مرے وجود کی گہرائیوں میں رہتا ہے

قمر عباس قمر

MORE BYقمر عباس قمر

    مرے وجود کی گہرائیوں میں رہتا ہے

    وہ ایک شخص جو تنہائیوں میں رہتا ہے

    قریب جاں وہی آتا ہے دستکیں دینے

    جو میرے جسم کی پرچھائیوں میں رہتا ہے

    مرا مکان بھی وحشت کدہ بنا ہوا ہے

    عجب تضاد مرے بھائیوں میں رہتا ہے

    وہ جھوٹ اتنی صفائی کے ساتھ بولتا ہے

    کہ اس کا ذکر بھی سچائیوں میں رہتا ہے

    اک اشتعال درون وجود انسانی

    دل فگار کی پہنائیوں میں رہتا ہے

    ملامت شب ہجراں کے بعد تیرا قمرؔ

    جہاں بھی جاتا ہے رسوائیوں میں رہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY