مری آہ بے اثر ہے میں اثر کہاں سے لاؤں

شیون بجنوری

مری آہ بے اثر ہے میں اثر کہاں سے لاؤں

شیون بجنوری

MORE BYشیون بجنوری

    مری آہ بے اثر ہے میں اثر کہاں سے لاؤں

    ترے پاس تک جو پہنچے وہ نظر کہاں سے لاؤں

    مجھے بھول جانے والے تجھے کس طرح بھلاؤں

    جسے درد راس آئے وہ جگر کہاں سے لاؤں

    مرے رزق بندگی کو ترے در سے واسطہ ہے

    جو جھکے بروئے کعبہ میں وہ سر کہاں سے لاؤں

    مرے پاس دل کے ٹکڑے مرے پاس خوں کے آنسو

    تو ہے سیم و زر کی دیوی تو میں زر کہاں سے لاؤں

    شب غم کے یہ اندھیرے مرا ساتھ دے رہے ہیں

    جو مٹائے ظلمتوں کو وہ سحر کہاں سے لاؤں

    وہی برق جس نے گر کر مری زندگی جلا دی

    میں اسی کو ڈھونڈتا ہوں وہ شرر کہاں سے لاؤں

    مری زندگی ہے شیونؔ کچھ عجیب کشمکش میں

    وہ اثر کو چاہتے ہیں میں اثر کہاں سے لاؤں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    مری آہ بے اثر ہے میں اثر کہاں سے لاؤں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے