آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے

شہریار

آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے

شہریار

MORE BY شہریار

    INTERESTING FACT

    اپنے آخری دنوں میں یہ غزل کہی جس میں موت کا احساس شدید ہے

    آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے

    میں نے سب تیاریاں کر لی ہیں مرنے کے لیے

    اس بلندی خوف سے آزاد ہو اس نے کہا

    چاند سے جب بھی کہا نیچے اترنے کے لیے

    اب زمیں کیوں تیرے نقشے سے نہیں ہٹتی نظر

    رنگ کیا کوئی بچا ہے اس میں بھرنے کے لیے

    یہ جگہ حیرت سرائے ہے کہاں تھی یہ خبر

    یوں ہی آ نکلا تھا میں تو سیر کرنے کے لیے

    کتنا آساں لگ رہا ہے مجھ کو آگے کا سفر

    چھوڑ آیا پیچھے پرچھائیں کو ڈرنے کے لیے

    مآخذ:

    • Book: sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 676)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites