کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں

شہریار

کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں

شہریار

MORE BY شہریار

    کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں

    یہ حسرت ہے کہ ان آنکھوں سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیں

    بہت مدت ہوئی یہ آرزو کرتے ہوئے ہم کو

    کبھی منظر کہیں ہم کوئی ان دیکھا ہوا دیکھیں

    سکوت شام سے پہلے کی منزل سخت ہوتی ہے

    کہو لوگوں سے سورج کو نہ یوں ڈھلتا ہوا دیکھیں

    ہوائیں بادباں کھولیں لہو آثار بارش ہو

    زمین سخت تجھ کو پھولتا پھلتا ہوا دیکھیں

    دھوئیں کے بادلوں میں چھپ گئے اجلے مکاں سارے

    یہ چاہا تھا کہ منظر شہر کا بدلا ہوا دیکھیں

    ہماری بے حسی پہ رونے والا بھی نہیں کوئی

    چلو جلدی چلو پھر شہر کو جلتا ہوا دیکھیں

    مآخذ:

    • Book: sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 354)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites