نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو

شہریار

نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو

شہریار

MORE BY شہریار

    نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو

    بڑی بھول ہوئی جو چھیڑ دیا کئی سازوں کو

    کوئی نیا مکین نہیں آیا تو حیرت کیا

    کبھی تم نے کھلا چھوڑا ہی نہیں دروازوں کو

    کبھی پار بھی کر پائیں گی سکوت کے صحرا کو

    درپیش ہے کتنا اور سفر آوازوں کو

    مجھے کچھ لوگوں کی رسوائی منظور نہیں

    نہیں عام کیا جو میں نے اپنے رازوں کو

    کہیں ہو نہ گئی ہو زمین پرندوں سے خالی

    کھلے آسمان پر دیکھتا ہوں پھر بازوں کو

    مآخذ:

    • Book: sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 475)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites