شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے

شہریار

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے

شہریار

MORE BY شہریار

    شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے

    رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے

    کل یوں تھا کہ یہ قید زمانی سے تھے بیزار

    فرصت جنہیں اب سیر مکانی سے نہیں ہے

    چاہا تو یقیں آئے نہ سچائی پہ اس کی

    خائف کوئی گل عہد خزانی سے نہیں ہے

    دہراتا نہیں میں بھی گئے لوگوں کی باتیں

    اس دور کو نسبت بھی کہانی سے نہیں ہے

    کہتے ہیں مرے حق میں سخن فہم بس اتنا

    شعروں میں جو خوبی ہے معانی سے نہیں ہے

    مآخذ:

    • Book: sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 675)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites