تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو

شہریار

تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو

شہریار

MORE BY شہریار

    تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو

    کب سے پلکوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں رات کو

    میرے حصے کی زمیں بنجر تھی میں واقف نہ تھا

    بے سبب الزام میں دیتا رہا برسات کو

    کیسی بستی تھی جہاں پر کوئی بھی ایسا نہ تھا

    منکشف میں جس پہ کرتا اپنے دل کی بات کو

    ساری دنیا کے مسائل یوں مجھے درپیش ہیں

    تیرا غم کافی نہ ہو جیسے گزر اوقات کو

    مآخذ:

    • Book: sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 361)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites