مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا

عرفان صدیقی

مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا

عرفان صدیقی

MORE BYعرفان صدیقی

    مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا

    وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا

    بہت دنوں میں یہ بادل ادھر سے گزرا ہے

    مرا مکان کبھی سائباں بھی رکھتا تھا

    عجیب شخص تھا بچتا بھی تھا حوادث سے

    پھر اپنے جسم پہ الزام جاں بھی رکھتا تھا

    ڈبو دیا ہے تو اب اس کا کیا گلہ کیجے

    یہی بہاؤ سفینے رواں بھی رکھتا تھا

    تو یہ نہ دیکھ کہ سب ٹہنیاں سلامت ہیں

    کہ یہ درخت تھا اور پتیاں بھی رکھتا تھا

    ہر ایک ذرہ تھا گردش میں آسماں کی طرح

    میں اپنا پاؤں زمیں پر جہاں بھی رکھتا تھا

    لپٹ بھی جاتا تھا اکثر وہ میرے سینے سے

    اور ایک فاصلہ سا درمیاں بھی رکھتا تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY