مستقر کی خواہش میں منتشر سے رہتے ہیں

صابر

مستقر کی خواہش میں منتشر سے رہتے ہیں

صابر

MORE BYصابر

    مستقر کی خواہش میں منتشر سے رہتے ہیں

    بے کنار دریا میں لفظ لفظ بہتے ہیں

    سب الٹ پلٹ دی ہیں صرف و نحو دیرینہ

    زخم زخم جیتے ہیں لمحہ لمحہ سہتے ہیں

    یار لوگ کہتے ہیں خواب کا مزار اس کو

    از رہ روایت ہم خواب گاہ کہتے ہیں

    روشنی کی کرنیں ہیں یا لہو اندھیرے کا

    سرخ رنگ قطرے جو روزنوں سے بہتے ہیں

    یہ کیا بدمذاقی ہے گرد جھاڑتے کیوں ہو

    اس مکان خستہ میں یار ہم بھی رہتے ہیں

    RECITATIONS

    صابر

    صابر

    صابر

    مستقر کی خواہش میں منتشر سے رہتے ہیں صابر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY