aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ فاصلے کو نہ رخت سفر کو دیکھتے ہیں

عرفان ستار

نہ فاصلے کو نہ رخت سفر کو دیکھتے ہیں

عرفان ستار

MORE BYعرفان ستار

    نہ فاصلے کو نہ رخت سفر کو دیکھتے ہیں

    عجیب رنج سے دیوار و در کو دیکھتے ہیں

    نہ جانے کس کے بچھڑنے کا خوف ہے ان کو

    جو روز گھر سے نکل کر شجر کو دیکھتے ہیں

    یہ روز و شب ہیں عبارت اسی توازن سے

    کبھی ہنر کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

    تو اس قدر بھی توجہ پہ خوش گمان نہ ہو

    تجھے نہیں تری تاب نظر کو دیکھتے ہیں

    فراق ہم کو میسر بھی ہے پسند بھی ہے

    پہ کیا کریں کہ تری چشم تر کو دیکھتے ہیں

    ہم اہل حرص و ہوس تجھ سے بے نیاز کہاں

    دعا کے بعد دعا کے اثر کو دیکھتے ہیں

    یہ بے سبب نہیں سودا خلا نوردی کا

    مسافران عدم رہ گزر کو دیکھتے ہیں

    وہ جس طرف ہو نظر اس طرف نہیں اٹھتی

    وہ جا چکے تو مسلسل ادھر کو دیکھتے ہیں

    ہمیں بھی اپنا مقلد شمار کر غالبؔ

    کہ ہم بھی رشک سے تیرے ہنر کو دیکھتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے