نہ پوچھ ہجر میں جو کچھ ہوا ہمارا حال

منور خان غافل

نہ پوچھ ہجر میں جو کچھ ہوا ہمارا حال

منور خان غافل

MORE BY منور خان غافل

    نہ پوچھ ہجر میں جو کچھ ہوا ہمارا حال

    جسے نہ عشق ہو وہ جانے کیا ہمارا حال

    یقین ہے کہ کہیں گے وہ ہم صفیروں سے

    قفس میں دیکھ گئی ہے صبا ہمارا حال

    عجب ہے اس کا جو اب تک نہیں سنا اس نے

    فسانۂ سر بازار تھا ہمارا حال

    گلا یہی ہمیں قاصد سے ہے کہ اس گل کو

    نہ خط دیا نہ زبانی کہا ہمارا حال

    کبھی تو غش پہ غش آئے کبھی لگی ہچکی

    ترے فراق میں کیا کیا ہوا ہمارا حال

    کہاں تلک نہ حیا دے گی رخصت گفتار

    کبھی تو پوچھے گا وہ مہ لقا ہمارا حال

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY