ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہے

اعجاز صدیقی

ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہے

اعجاز صدیقی

MORE BYاعجاز صدیقی

    ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہے

    ناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہے

    یوں تو گلشن میں ہیں سب مدعیٔ یک رنگی

    باوجود اس کے ہر اک رنگ جدا لگتا ہے

    کبھی دشمن تو کبھی دوست کبھی کچھ بھی نہیں

    مجھے خود بھی نہیں معلوم وہ کیا لگتا ہے

    اس کی باتوں میں ہیں انداز غلط سمتوں کے

    ہو نہ ہو یہ تو کوئی راہنما لگتا ہے

    نہ ہٹا اس کو مرے جسم سے اے جان حیات

    ہاتھ تیرا مرے زخموں کو دوا لگتا ہے

    دور سے خود مری صورت مجھے لگتی ہے بھلی

    جانے کیوں پاس سے ہر شخص برا لگتا ہے

    روکتا ہوں تو یہ رکتا ہی نہیں ہے اعجازؔ

    مجھے ہر روز و شب وقت ہوا لگتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY