پہلے تو ان کو اڑنے اڑانے کی پڑ گئی

زبیر احمد تنہا ملک رام پوری

پہلے تو ان کو اڑنے اڑانے کی پڑ گئی

زبیر احمد تنہا ملک رام پوری

MORE BYزبیر احمد تنہا ملک رام پوری

    پہلے تو ان کو اڑنے اڑانے کی پڑ گئی

    پھر آسماں زمین پہ لانے کی پڑ گئی

    کیا کیا گنوا دیا ہے محبت میں آج تک

    اک دن مجھے حساب لگانے کی پڑ گئی

    اب تک قدیم زخم حرارت میں تھے مرے

    ظالم کو اپنا ظلم بڑھانے کی پڑ گئی

    جدت غم حیات کی دل میں لئے ہوئے

    میں رو رہا تھا اس کو ہنسانے کی پڑ گئی

    اظہار عشق کرنے ہی والا تھا ان سے میں

    واپس انہیں تو آتے ہی جانے پڑ گئی

    میں بھی لہولہان ہوں وہ بھول ہی گیا

    اس کو تو اپنا زخم دکھانے کی پڑ گئی

    دم آخری ہے لب پہ مرا اس کو دوستو

    اس حال میں بھی چھوڑ کے جانے کی پڑ گئی

    کچھ نیکیاں بھی تو نے کمائی ہیں کیا ملکؔ

    دولت تو بے شمار کمانے کی پڑ گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے