پردہ پڑا ہوا تھا خودی نے اٹھا دیا

شفیق جونپوری

پردہ پڑا ہوا تھا خودی نے اٹھا دیا

شفیق جونپوری

MORE BYشفیق جونپوری

    پردہ پڑا ہوا تھا خودی نے اٹھا دیا

    اپنی ہی معرفت نے تمہارا پتہ دیا

    در در کی ٹھوکروں نے شرف کو مٹا دیا

    قدرت نے کیوں غریب کو انساں بنا دیا

    اپنے وجود کا بھی تو کوئی ثبوت ہو

    میں تھا کہاں کہ مجھ کو کسی نے مٹا دیا

    اللہ رے جبہہ سائی خاک حریم دوست

    بندے کو بندہ سجدے کو سجدا بنا دیا

    حس مردہ تھی حیات مسلسل میں زیست کی

    تخریب زندگی نے پیام بقا دیا

    پھر اس کے گھر میں ہو نہ سکی روشنی کبھی

    جس کا چراغ تو نے جلا کر بجھا دیا

    کوئی خوشی خوشی نہیں اپنے لیے شفیقؔ

    کس کی نگاہ نے سبق غم پڑھا دیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    پردہ پڑا ہوا تھا خودی نے اٹھا دیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY