پھر کوئی کردار آیا یوں دو کرداروں کے بیچ
پھر کوئی کردار آیا یوں دو کرداروں کے بیچ
جیسے کوئی خار اگ آتا ہے گلزاروں کے بیچ
ہوتی ہیں سرگوشیاں یہ رن میں تلواروں کے بیچ
آج تو ہم پھنس گئے ہیں خون کی دھاروں کے بیچ
اس نے مجھ کو بھی نوازا عشق کی توفیق سے
میں نے بھی کچھ دن گزارے حسن کے ماروں کے بیچ
تم بھی چاہو تو اٹھاؤ گریہ و زاری کا لطف
تم بھی چاہو تو چلے آؤ عزاداروں کے بیچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.