پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی

غلام بھیک نیرنگ

پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی

غلام بھیک نیرنگ

MORE BYغلام بھیک نیرنگ

    پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی

    سر شوریدہ وہی عشق کا سودا ہے وہی

    دانہ و دام سنبھالا مرے صیاد نے پھر

    اپنی گردن ہے وہی عشق کا پھندا ہے وہی

    پھر لگی رہنے تصور میں وہ مژگان دراز

    رگ جاں میں خلش خار تمنا ہے وہی

    پھر لگا رہنے وہی سلسلۂ ناز و نیاز

    جلوۂ حسن وہی ذوق تماشا ہے وہی

    پھر ہوا ہم کو دل و دیں کا بچانا مشکل

    نگۂ ناز کا پھر ہم سے تقاضا ہے وہی

    ناز نے پھر کیا آغاز وہ انداز نیاز

    حسن جاں سوز کو پھر سوز کا دعویٰ ہے وہی

    محو دید چمن شوق ہے پھر دیدۂ شوق

    گل شاداب وہی بلبل شیدا ہے وہی

    پھر چمک اٹھی وہ کجلائی ہوئی چنگاری

    رخت ہستی ہے وہی عشق کا شعلہ ہے وہی

    آرزو جی اٹھی پھر پیار جو اس بت نے کیا

    پھر لب یار میں اعجاز مسیحا ہے وہی

    پاس ناموس نے پھر رخصت رفتن چاہی

    شہرت حسن وہی الفت رسوا ہے وہی

    پھر ہوئی لیلیٰ و مجنوں کی حکایت تازہ

    ان کا عالم وہی نیرنگؔ کا نقشہ ہے وہی

    مأخذ :
    • کتاب : Jadeed Shora-e-Urdu (Pg. 387)
    • Author : Dr. Abdul Wahid
    • مطبع : Feroz sons Printers Publishers and Stationers

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے