قطرے میں دریا ذرے میں صحرا دکھائی دے
قطرے میں دریا ذرے میں صحرا دکھائی دے
وا دل کی آنکھ ہو تو تماشا دکھائی دے
تیری نظیر حسن و ادا میں کوئی نہیں
مجھ کو بتا دے کوئی جو تجھ سا دکھائی دے
اپنی برائیوں پہ اگر جائے گی نظر
دنیا میں ہر کوئی ہمیں اچھا دکھائی دے
چھانی ہے اس لئے رہ دیر و حرم کی خاک
شاید تمہارا نقش کف پا دکھائی دے
اپنی حیات عشق پہ ڈالیں اگر نظر
ناخوش گواریوں کا پلندہ دکھائی دے
گل کی ادا چمن میں جمالیؔ ہے دل پذیر
سینہ ہو غم سے چاک تو ہنستا دکھائی دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.