قبول عام ہوا ہوں تو صف میں رکھا ہے
قبول عام ہوا ہوں تو صف میں رکھا ہے
ہوا نے نام مرا سر بکف میں رکھا ہے
گہر شناس نے بھی مصلحت سے کام لیا
یقیں کا نور تو کب سے صدف میں رکھا ہے
کہاں خیال کیا معتبر حوالوں کا
کہاں کسی نے نوا کو شرف میں رکھا ہے
ترے خلاف کوئی بات ہو گئی تو کیا
ضمیر نے مرے مجھ کو ہدف میں رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.