رات ایسی کہ کبھی جس کا سویرا نہ ہوا

شاہد ماہلی

رات ایسی کہ کبھی جس کا سویرا نہ ہوا

شاہد ماہلی

MORE BYشاہد ماہلی

    رات ایسی کہ کبھی جس کا سویرا نہ ہوا

    درد ایسا کہ کوئی جس کا مسیحا نہ ہوا

    راز اک دل میں لیے پھرتے ہیں صحرا صحرا

    کوئی ہم راز تو ہو شہر میں ایسا نہ ہوا

    میرے احساس کی قسمت میں ہی محرومی تھی

    کبھی سوچا نہ ہوا اور کبھی چاہا نہ ہوا

    دل کے آئینے میں ہر عکس ہے دھندلا دھندلا

    لاکھ صورت ہے مگر کوئی بھی تم سا نہ ہوا

    بزم اغیار میں شاہدؔ کے اڑے تھے پرزے

    کوئی چرچا نہ ہوا کوئی تماشا نہ ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY