رات دن گردش میں ہیں لیکن پڑا رہتا ہوں میں

مہندر کمار ثانی

رات دن گردش میں ہیں لیکن پڑا رہتا ہوں میں

مہندر کمار ثانی

MORE BYمہندر کمار ثانی

    رات دن گردش میں ہیں لیکن پڑا رہتا ہوں میں

    کام کیا میرا یہاں ہے سوچتا رہتا ہوں میں

    باہر اندر کے جہانوں سے ملا مجھ کو فراغ

    تیسری دنیا کے چکر کاٹتا رہتا ہوں میں

    ایک بے خوفی مجھے لے آئی ساحل کے قریب

    آ کے اب نزدیک ساحل کے ڈرا رہتا ہوں میں

    جانے کیسی روشنی تھی کر گئی اندھا مجھے

    اس بھیانک تیرگی میں بھی بجھا رہتا ہوں میں

    کر دیا کس نے مرا آئینۂ دل گرد گرد

    عکس ہوں کس کا ہوا سے پوچھتا رہتا ہوں میں

    ایک جنگل سا اگا ہے میرے تن کے چاروں اور

    اور اپنے من کے اندر زرد سا رہتا ہوں میں

    ایک نقطے سے ابھرتی ہے یہ ساری کائنات

    ایک نقطے پر سمٹتا پھیلتا رہتا ہوں میں

    روشنی میں لفظ کے تحلیل ہو جانے سے قبل

    اک خلا پڑتا ہے جس میں گھومتا رہتا ہوں میں

    سانس کی لے پر تھرکتی ہے کوئی ازلی ترنگ

    رنگ ثانیؔ دیکھ کر حیرت زدہ رہتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے