رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں

مختار صدیقی

رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں

مختار صدیقی

MORE BYمختار صدیقی

    رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں

    جو آشفتہ سری ہے مقدر اس میں قید مقام کہاں

    بھیگی رات ہے سونی گھڑیاں اب وہ جلوۂ عام تمام

    بندھن توڑ کے جاؤں لیکن اے دل اے ناکام کہاں

    اب وہ حسرت رسوا بن کر جزو حیات ہے برسوں سے

    جس سے وحشت کرتے تھے تم اب وہ خیال خام کہاں

    زیست کی رہ میں اب ہم بے حس تنہا سر بہ گریباں ہیں

    کچھ آلام کا ساتھ ہوا تھا وہ بھی نافرجام کہاں

    کرنی کرتے راہیں تکتے ہم نے عمر گنوائی ہے

    خوبی قسمت ڈھونڈ کے ہاری ہم ایسے ناکام کہاں

    اپنے حال کو جان کے ہم نے فقر کا دامن تھاما ہے

    جن داموں یہ دنیا ملتی اتنے ہمارے دام کہاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY