رکھتا ہے اپنے ساتھ گناہوں کا بار دل

انس نبیل

رکھتا ہے اپنے ساتھ گناہوں کا بار دل

انس نبیل

MORE BYانس نبیل

    رکھتا ہے اپنے ساتھ گناہوں کا بار دل

    اجلے سے میرے سینے میں ہے داغدار دل

    تقویٰ سے گر بھرا ہو تو پھر نیکیوں کی سمت

    اس طرح دوڑتا ہے کہ ہو شہسوار دل

    ہیں آج سب کے سینوں میں پتھر رکھے ہوئے

    برسائے آسمان سے پروردگار دل

    کب تک تو اس کی یاد کو رکھے گا اوڑھ کر

    پھٹنے لگی ہے اب تو قبا یہ اتار دل

    کیسی منافقانہ روش ہے کہ جسم کو

    دیتا ہے پاک خون یہی پر غبار دل

    کانٹوں سے غم کے اس کو چھڑانے کے واسطے

    کھینچا جو میں نے اور ہوا تار تار دل

    ہر بات پر ہے میرا یہ دشمن بنا ہوا

    سینے میں چبھتا رہتا ہے مانند خار دل

    کہتا ہے شعر داغ کے لہجے میں اب نبیلؔ

    ہو نہ ہو اس کا بھی ہے بہت بے قرار دل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY