اک چاند تیرگی میں ثمر روشنی کا تھا

مینک اوستھی

اک چاند تیرگی میں ثمر روشنی کا تھا

مینک اوستھی

MORE BYمینک اوستھی

    اک چاند تیرگی میں ثمر روشنی کا تھا

    پھر بھید کھل گیا وہ بھنور روشنی کا تھا

    سورج پہ تو نے آنکھ تریری تھی یاد کر

    بینائیوں پہ پھر جو اثر روشنی کا تھا

    سب چاندنی کسی کی عنایت تھی چاند پر

    اس داغ دار شو پہ کور روشنی کا تھا

    مغرب کی مدبھری ہوئی راتوں میں کھو گیا

    اس گھر میں کوئی لخت جگر روشنی کا تھا

    دریا میں اس نے ڈوب کے کر لی ہے خودکشی

    جس شے کا آسماں پہ سفر روشنی کا تھا

    ذرے کو آفتاب بنایا تھا ہم نے اور

    دھرتی پہ قہر شام و سحر روشنی کا تھا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے