سانپ سا لیٹا ہوا سنسان رستہ سامنے تھا

رفیق راز

سانپ سا لیٹا ہوا سنسان رستہ سامنے تھا

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    سانپ سا لیٹا ہوا سنسان رستہ سامنے تھا

    خطرہ آغاز سفر میں ایک ایسا سامنے تھا

    دشت میں گھمسان کا وہ رن پڑا تھا کچھ نہ پوچھو

    دھوپ میری پشت پر تھی اور سایا سامنے تھا

    اب تو ان آنکھوں کے آگے آئینہ ہے اور میں ہوں

    ہائے مژگاں کھولنے سے پہلے کیا کیا سامنے تھا

    بزدل ایسے تھے بھگو پائے نہ اپنے ہاتھ تک ہم

    دونوں بازو تھے سلامت اور دریا سامنے تھا

    میں مسافت کی طرح تھا بیچ میں سمٹا ہوا سا

    پشت کی جانب سمندر اور صحرا سامنے تھا

    وصل کے خوابوں میں اب وہ روشنی باقی نہیں تھی

    ہجر کی راتوں میں سونے کا نتیجہ سامنے تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Nakhl-e-Aab (Pg. 195)
    • Author : Rafeeq Raaz
    • مطبع : Takbeer Publications, Srinagar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے